امیر کبیر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ کی مختصر حالات زند گی
حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ
علیہ12رجب 714ھ بمطابق 12اکتوبر 1314ء کو ایران کے مردم خیز شہرہمدان میں پید ا
ہوئے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کے والد گرامی اور والدہ ماجدہ دونوں طرف سے
حسینی سید تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے والد گرامی کا نام شہاب الدین اور والدہ
ماجدہ کا نام سیدہ فاطمہ تھا جو سید علاوالدولہ سمنا نی رحمۃ اللہ علیہ (وقت کے
مشہور عارف اور صاحب تصانیف کثیرہ بزرگ )کی بہن تھیں چنانچہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی
تربیت شیخ علاوالدولہ سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کے ہا تھوں ہو ئی بچپن میں آپ رحمۃ
اللہ علیہ نے قرآن حکیم حفظ کیا اور شیخ سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کے علوم
ظاہری و باطنی کا درس لیتے رہے پھر شیخ نے فقروسلوک کی تربیت کے لئے انپے ہونہار
بھانجے کو شیخ اخی علی دوستی سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد کیا ۔شاہ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ علی دوستی اور شیخ محمود مزدقانی کی خدمت
میں طویل عرصہ تک رہے یہ آٹھ سال کے طویل عرصہ پر محیط ہے یہ عرصہ انہوں نے سخت
ریاضات اور مجاہدے بجا لانے میں گزار دیا پھر شیخ محمود مزدقانی رحمۃ اللہ علیہ کی
ہدایت کے تحت آپ رحمۃ اللہ علیہ سیاحت عالم کے لئے نکل پڑے اور دم واپسں تک سیر و
سیاحت، تبلیغ و ارشاد اورجہاں گردی و صحرا نوردی میں بسر کئے اس دوران آپ رحمۃ
اللہ علیہ نے ایک ہزار چار سو اولیاء سے ملاقات کی اور ان سے فیوض و برکات حاصل
کئے جن میں سے 34 مشائخ ایسے تھے جنہوں نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کو اجازت ارشاد سے
نوازا۔
جہاں گردی و صحرا نوردی کے دوران بارہا آپ رحمۃ اللہ علیہ غول
بیابانی سے دوچار ہوئے غیرمسلم طاغوتی قوتوں کے ساتھ آپ رحمۃ اللہ علیہ کو نبرد
آزمائی کرنا پڑی کشمیر میں ہندو جوگیوں کے ساتھ اور بلتستان میں بدھ مت لامائوں
کے ساتھ مقابلے کرنا پڑے اور ساتھ ہی علمائے سوء کے ہاتھوں متعدد بار طعن و تشینع
حتی کی زہر خورانی کی تکالیف سہنا پڑیں پھر بھی آپ رحمۃ اللہ علیہ نے سیر و سیاحت
میں عظیم الشان کامیابی حاصل کی اسی دوران تقریبا 38 ہزار کشمیری ہندؤں کو
مسلمان بنایا ۔ بارہ بار حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے ایسے علا قوں میں دین
اسلام متعارف کرایا جہاں اس سے پہلے اسلام اور مسلمان کبھی نہیں پہنچا تھا اس
دوران آپ رحمۃ اللہ علیہ نے مزدقان، ختلان، بلخ، بدخشان، یزد، شام ،عراق، حجاز،
ماوراء النہر،سری لنکا، ہند وستا ن، کشمیر، چین اور بلتستان کا سفر کیا اور
لاکھوں بندگان خدا کو فیض پہنچایا ۔
میر
سید ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ774ھ،1372ء میں پہلی بار کشمیر پہنچے اور کچھ عرصہ تبلیغ
و ارشاد میں مصروف رہ کر واپس چلے گئے دوسری بار781ھ، 1379ء میں اورتیسری بار
1384ھ786ء میں آپ رحمۃ اللہ علیہ پہلی بار کشمیر کے راستے بلتستان پہنچے
تھے بلتستان سے آپ رحمۃ اللہ علیہ سیاچن گلیشر کے ذریعے ترکستان چلے گئے
تھے اور ان علاقوں کی سیاحت کے بعد 785ھ،1383ء میں پھر بلتستان تشر یف لائے تھے
اور بلتستان میں مختصر قیام کے بعد تیسری بار کشمیر پہنچے کشمیر میں مختصر
قیام کے بعد حج بیت اللہ کی غرض سے نکلے اور6 ذلحجہ 786ھ1384ء کو پکھلی موجودہ
نوکوٹ نزد مانسہرہ کے مقام پر خالق حقیقی سے جا ملے۔ مادہ تاریخ وفا ت'' بسم اللہ
الر حمن الر حیم " ہے۔ متعدد لوگوں نے تاریخ وفات کہی۔ آپ کی نعش آپ کی وصیت کے مطابق پکھلی سے ختلان(موجودہ کولاب دوشنبہ
تاجکستان) پہنچائی گئی اور وہاں دفن ہوئی آپ کا مزار مبارک وہا ں مو جودہے۔
اولاد
میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصّہ ریاضت ومجاہدات بجالانے، سیر وسیاحت کرنے، دین اسلام پھیلانے اور کتب ورسائل لکھنے میں گزار دیا ۔ اس وقت آپ نے شادی کی جبکہ آپ کی عمر کے چالیس برس گزرچکے تھے تاہم ایک بیٹا اور ایک بیٹی متولد ہوئے۔ بیٹا مشہور مبلغ اسلام میر سید محمد ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ تھے اور بیٹی آپ کے مشہور مرید اور خلیفہ خواجہ اسحاق ختلانی رحمۃ اللہ علیہ کے عقد میں آئیں۔ دونوں کے مزار علی ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار مبارک کے احاطے میں واقع ہیں۔ سید محمد ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ کے توسط سے آپ کی نسل بڑھی اب بھی پاک وہند میں آپ کی اولاد سادات ہمدانی کے نام سے موجود ہے۔
شاعرمشرق علامہ محمد اقبالؒ
سید السادات سالارعجم دست او معمار
تقدیر امم
مرشد آن کشور مینو نظیر میر و درویش و سلاطین را مشیر
جملہ را آن شاہ دریا آستین داد علم و صنعت و تہذیب و دین
آفرید آن مرد ایرن صغیر با ھنر ھای غریب و دلپذیر
یک نگاہ او کشاید صد گرہ خیز و تیر ش را بدل راہی بدہ
جملہ را آن شاہ دریا آستین داد علم و صنعت و تہذیب و دین
آفرید آن مرد ایرن صغیر با ھنر ھای غریب و دلپذیر
یک نگاہ او کشاید صد گرہ خیز و تیر ش را بدل راہی بدہ
آثار شا ہمدان
میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار ان بزرگوں میں ہوتا ہے جو تصانیف کثیرہ کے مالک ہیں جن کی تعلیمات بے حد وسیع ہیں ۔ آپ کی تصانیف میں کچھ امتداد زمانہ کے ہاتھوں تلف ہوئی ہیں اور کچھ باقی ہیں تحائف الابرار میں آپ کے رشحات قلم کاشمارایک سو ستر مرقوم ہے۔
میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار ان بزرگوں میں ہوتا ہے جو تصانیف کثیرہ کے مالک ہیں جن کی تعلیمات بے حد وسیع ہیں ۔ آپ کی تصانیف میں کچھ امتداد زمانہ کے ہاتھوں تلف ہوئی ہیں اور کچھ باقی ہیں تحائف الابرار میں آپ کے رشحات قلم کاشمارایک سو ستر مرقوم ہے۔
میر سید علی ہمد انی رحمۃ اللہ علیہ کی بعض کتابوں کے ترجمے دوسری
زبانوں میں ہو ئے ہیں ان میں کشمیری اردو ،پشتو ،جرمن ،فرانسسیی ،عربی اور فارسی
شامل ہیں بعض کتابوں کے خلا صے اور شرحیں شا ئع ہوچکی ہیں ۔ بعض کتابیں متعدد
بارشائع ہوئی ہیں لیکن بعض کتابیں ابھی تک شائع نہیں ہوئی ہیں ۔ راقم السطور نے
شاہ ہمدان کی تصانیف حاصل کرنے کے سلسلے میں بہت محنت کی ہے ۔اب تک مندرجہ ذیل کتب
و رسائل حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے ۔
1. ذخیرۃ الملوک 2. مودۃ القربی 3. کتا ب ذکر یہ 4. کتاب الا ورادیہ 5. مشارب الاذواق 6. مکتوبات امیریہ
7. کتاب الفتوۃ 8. مصباح العرفان 9. آداب سفرہ 10. چہل مقام صوفیاں 11. دہ قاعدہ 12. عقبات 13. اورادفتحیہ
14. درویشیہ 15. السبعین فی فضائل امیر المومنین 16. چہل اسرار 17. منہاج العارفین 18. مرادات حافظ 19. کنزالیقین
20. مرات التا ئبین 21. تلقینیہ 22. ہمدانیہ 23. داودیہ 24. رسالہ ذکریہ عربی 25. مناجات 26. الطالقا نیہ 27. منامیہ
28. مشیت 29. اسرار النقطہ
یہ سب شائع شدہ ہیں بعض کئی بار چھپ چکی ہیں بعض کے تراجم ہوئے بعض
کی شرحیں لکھی گئیں -
مندرجہ
ذیل آثار ابھی تک شا ئع نہیں ہوئے ہیں بعض کے اصل مخطوطات اوربعض کی فوٹو کاپیاں
راقم کے پاس موجود ہیں۔
1. عقلیہ 2. خواطریہ 3. مشکل حل وحل مشکل 4. سیرالطالبین 5. چہل حدیث نمبر ۱ 6. چہل حدیث نمبر۲
7. چہل حدیث نمبر۳ 8. رسالہ ذکریہ (صغری) 9. رسالہ رسالتہ التوبہ (عربی) 10. نوریہ 11. مکارم اخلاق
12. اعتقادیہ 13. اصلاحات صوفیہ 14. رسالہ درطب 15. واردات امیریہ 16. فر است نامہ 17. رسالہ معرفت النفس
مندرجہ ذیل کتب و رسائل بھی میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ کی
ہیں ۔ محققین نے اس بات کی تصدیق کی ہے لیکن راقم السطور نے ا بھی انہیں نہیں دیکھا
۔ البتہ یہ دنیا کے بڑے بڑے کتا ب خانوں میں موجود ہیں ۔
1. بہرام شا ہیہ 2. موچلکہ 3. حقیقت ایمان 4. حق الیقین 5. حل فصوص الحکم 6. نسبت خرقہ 7. آداب المریدین
8. وجودیہ 9. اسناداوراد فتحیہ 10. طائفہ مردم 11. حقیقت نو 12. اختیارات منطق الطیر 13. اسناد حلیہ حضرت رسولؐ
14. اقرب الطر یق اذلم یو جد الرفیق 15. فی سواداللیل 16. رسالہ سوالات کلا می 17. معاش السالکین 18. شرح اسما ء ٍالحسنی
19. و ضتہ الفردوس 20. منازل السالکین 21. فی علماء الدین 22. فی فضل الفقر 23. الانسان الکامل 24. النا سخ والمنسوخ
25. تفسیر حروف معجم 26. فی خواص اہل الباطن 27. خطبتہ الا میریہ
کتابیں
1. بلتستان پر ایک نظر از محمد یوسف حسین آبادی
اشاعت دوم سکردو1987
2. بلتستان کی شاعری از عطا حسین کلیم
سا ل
ندارو لاہو ر
3. بلتی لوک گیت از سید محمد عباس
کاظمی اسلام آبا
د 1985
4. تاریخ ادیبا ت بلتستان محمد حسن حسرت راولپنڈی 1992
5. سیا چن گلیشئر بریگیڈ محمد ذاکر راولپنڈی 1991
6. قراقرم ہندوکش منظوم
علی اسلام آبا د 1985
7. تاریخ بلتستان غلام حسن حسُنو میرپور 1992
8. تاریخ گلگت شاہ رئیس خان اسلام آبا د 1987
9. تاریخ جموں مولوی حشمت
اللہ لاہور1963دوسرا ایڈیشن
10. اسلام آباد شما لی علا قے محمد اسماعیل ذبیح کراچی 1984
11. آئینہ دردستان ہدایت اللہ اختر گلگت 1987
12.آئینہ بلتستان فدا حسین شمیم راولپنڈی سال ند ارد
13. شا ہجہان نامہ اردو محمد صالح کمبو ہ لاہو ر 1988
14. بلتی زبان محمد یوسف حسین آبادی سکردو 1990
15. می منگ رگیا سترت بلتستان غلام حسن لوبسا نگ سکردو
مختلف سال
16. توزک جہا نگیری اردو نورالدین
جہانگیر لاہو ر 1967
17. دعوت اتحاد ازمولوی عبدالرشید
کراچی
18. تاریخ کشمیر (مسلم عہد )
ڈاکٹر
صابرآفاقی
لاہو ر 1992
19. تاریخ مکمل کشمیر
محمد الدین فوق
میرپور
1993
20. زاد الجنان قلمی
سلطان علی
بلغاری
مملوکہ سجاد حسین بلغا ری
21. تحفتہ الاحباب قلمی
محمد علی کشمیر
ممکوکہ سید محمد شاہ کیریس بلتستان
22. تذکرہ شعرائے کشمیر
حسام الدین راشدی
کراچی 1961
23. ارض بلتستان
محمد ابراہیم
زائر
راولپنڈی 1993
24. کلیات تحسین قلمی
تحسین کشمیر
مملو کہ مصنف
25. وادی بلتستان کی مذہبی حالات
26. سہ ماہی مجلہ التراث
جامعہ دارالعلوم غواڑی بلتستان
27. لداخ تاریخ ثقافت
غنی شیخ
جموں
2005
28. کشمیر میں اشاعت اسلام
سلیم خان
گمی
لاہور
29. واقعات کشمیر
محمد اعظم
دیدہ مری لاہور
1995
30. پاکستان کے دینی فرقے
ازثاقب
اکبر
2010
اسلام آباد
31. تاریخ کشمیر
نذیر احمد تفتہ
لاہور2006
32. تاریخ اقوام کشمیر
محمد الد ین فوق
میر پور 1993
33. تاریخ ایران قدیم
محمد
حیات
لاہور 2006
34. قراقرم کے قبائل
پروفیسر عثمان علی
سنگ میل لاہور
35. تذکرہ صوفیاء و علمائے
بلتستان مولوی خلیل الرحمن بلغاری
قلمی
36. کہساروں کی زمین میں چند روز
مبارک حسین عاجز
میرپور
1992
37. تاریخ اقوام خپلو قلمی
راجہ فتح علی خان
38. مجلہ
التراث
دارالعلوم غواری
39. شما لی علاقہ جات کا لسانی و
ادبی جائزہ
سید عالم
اسلام آبا د 1990
40. جنگل کے با سی (شمالی علا قوں کی
جنگلی حیات) غلام رسول
لاہور سال ندارد
41. بلتستان میں اشاعت اسلام کا
تحقیقی جائزہ
ابراہیم عبداﷲ
(غیر مطبوعہ)
42. مسودہ مولوی محمد ابراہیم چق چن
خپلومرحوم
43. مسودہ، مولوی محمد علی غربوچنگ
مرحوم
44. Lure of Karakaramsz
A.S.Oamar
راولپنڈی 1995
45. Baltistan in Histoty
B.N.G.Afridi
پشاوری 1988
46. PREACHING OF ISLAMاز ٹی ڈبلیو آرنلڈ کا ترجمہ دعوت اسلام از شیخ عنایت ﷲ لاہور2004

